ہر خطبے میں پہلے موضوع کے مطابق آیاتِ قرانی ہیں اور اس کے بعد ان آیات سے حاصل ہونے والے اسباق تحریر ہونگے۔ اس کے بعد ان اسباق پر صحیح احادیث کی روشنی میں تھوڑی سی تفصیل ہوگی۔ پھر ایک چھوٹی نیکی اور ہفتے بھر کیلئے اللہ تعالی کے احکامات کے مطابق ایک عمل کی سفارش کی جائے گی۔
اس کے بعد خطبے کے اختتام سے پہلے ایک خلاصہ تاکہ بعد میں آنے والے بھی موضوع سے مستفید ہوسکیں۔ پھر اختتام اور دعا
۔
اگر کوئی میرے خطبات سے استفادہ نہ بھی کرنا چاہے تو اس فہرست میں سے اپنی سہولت کے مطابق اپنے خطبات کے موضوع تیار کرسکتا ہے۔ ہر موضوع کے ساتھ متعلقہ آیاتِ قرآنی کے نمبر لکھے ہوئے ہیں۔
۔
۔۔۔ راہنما
"ان کے مال میں سے زکوٰۃ قبول کرلو کہ اس سے تم ان کو (ظاہر میں بھی) پاک اور (باطن میں بھی) پاکیزہ کرتے ہو اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو کہ تمہاری دعا ان کے لئے موجبِ تسکین ہے اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔" (التوبہ 9:103، ترجمہ مولانا فتح محمد جالندھریؒ)
زکوٰۃ اور صدقہ دو الگ چیزیں ہیں: زکوٰۃ فرض اور ریاست کا نظام، صدقہ رضاکارانہ (البقرہ 2:177 میں دونوں الگ الگ مذکور)۔
اس خطبے میں:
9:60 اور 9:103 میں "صدقہ" سے مراد ریاست کا وصول کردہ فرض صدقہ ہے: "إِنَّمَا"، "فَرِيضَةً" اور "خُذْ" اس کی دلیل ہیں۔ مترجمین کے بریکٹ قرآن کے الفاظ نہیں۔
یہ فرض مال دینے والے کو پاک کرتا ہے، اور وصول کرنے والا دینے والے کو دعا دیتا ہے (التوبہ 9:103)۔
امال صرف آٹھ مقررہ مدوں میں خرچ ہوتا ہے، غریبوں پر بھی اور ریاست کی ضروریات پر بھی (التوبہ 9:60)؛ جبکہ نفلی صدقہ امیر غریب سب پر خرچ ہو سکتا ہے۔
زکوٰۃ غریب پر احسان نہیں، اس کا حق ہے؛ مالداروں سے لی جاتی اور غریبوں کو لوٹائی جاتی ہے۔
زکوٰۃ اقتدار والوں کی ذمہ داری ہے (الحج 22:41)، اور حضرت ابو بکرؓ نے اسے روکنے والوں کے خلاف ریاستی اقدام کیا۔
نماز اور زکوٰۃ دینی بھائی چارے کی بنیاد ہیں (التوبہ 9:11)۔
حدیثِ مبارکہ:
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مالدار کا (قرض یا حق ادا کرنے میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے"۔ (صحیح بخاری 2400، صحیح مسلم 1564)
اس ہفتے کی چھوٹی نیکی: ایک نام
اپنے خاندان یا محلے میں ایک ایسے شخص کا نام لکھ لیں جو ضرورت مند ہے مگر کبھی مانگتا نہیں۔ اس ہفتے اس کا حال پوچھیں، چاہے کچھ دیں یا نہ دیں۔ کسی کو یہ احساس دلانا کہ وہ یاد ہے، خود ایک نیکی ہے۔
اس ہفتے کا عمل: اگر آپ پر زکوٰۃ فرض ہے تو اس ہفتے اس کا پورا حساب کر لیں اور ایک تاریخ مقرر کر لیں۔ اور اگر آپ کا کوئی ملازم یا مزدور مستحق ہے تو زکوٰۃ میں اس کا خیال رکھیں، مگر اسے تنخواہ کا حصہ نہ بنائیں۔
قرآن کے احکام، صحیح احادیث کی روشنی میں، ہر جمعے ایک نیا موضوع۔ اپنی مسجد کے خطیب صاحب اور دوستوں تک یہ پیغام پہنچائیں۔