ہر خطبے میں پہلے موضوع کے مطابق آیاتِ قرانی ہیں اور اس کے بعد ان آیات سے حاصل ہونے والے اسباق تحریر ہونگے۔ اس کے بعد ان اسباق پر صحیح احادیث کی روشنی میں تھوڑی سی تفصیل ہوگی۔ پھر ایک چھوٹی نیکی اور ہفتے بھر کیلئے اللہ تعالی کے احکامات کے مطابق ایک عمل کی سفارش کی جائے گی۔
اس کے بعد خطبے کے اختتام سے پہلے ایک خلاصہ تاکہ بعد میں آنے والے بھی موضوع سے مستفید ہوسکیں۔ پھر اختتام اور دعا
۔
اگر کوئی میرے خطبات سے استفادہ نہ بھی کرنا چاہے تو اس فہرست میں سے اپنی سہولت کے مطابق اپنے خطبات کے موضوع تیار کرسکتا ہے۔ ہر موضوع کے ساتھ متعلقہ آیاتِ قرآنی کے نمبر لکھے ہوئے ہیں۔
۔
۔۔۔ راہنما
"اور تمہارے اخلاق بڑے (عالی) ہیں۔" (القلم 68:4، ترجمہ مولانا فتح محمد جالندھریؒ)
اللہ سے محبت کی دلیل رسول اللہ ﷺ کی پیروی ہے (آل عمران 3:31)، نعرے نہیں۔
اس خطبے میں:
اطاعتِ رسولؐ کا دائرہ معیشت اور حقوق تک ہے، تاکہ دولت صرف امیروں میں گردش نہ کرے (الحشر 59:7)۔
نبی ﷺ کی زندگی ہر حال میں بہترین نمونہ ہے، گھر سے میدانِ جنگ تک (الاحزاب 33:21)۔
اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو "رؤوف رحیم" کہا، وہ ہماری تکلیف پر تکلیف محسوس کرتے تھے (التوبہ 9:128)۔
نبی ﷺ کی سب سے بڑی تعریف ان کے اخلاق ہیں (القلم 68:4)، اور آپ ﷺ اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے آئے۔
مومن وہ ہے جسے نبی ﷺ والدین، اولاد اور سب لوگوں سے بڑھ کر محبوب ہوں۔
نبی ﷺ گھر میں کام کرتے، خادم کو کبھی نہ ڈانٹتے، اور بیٹی کے لیے کھڑے ہو جاتflat۔
حدیثِ مبارکہ:
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں"۔ (صحیح بخاری 15، صحیح مسلم 44)
اس ہفتے کی چھوٹی نیکی: ایک سنت، گھر میں
اس ہفتے کم از کم ایک دن گھر کا کوئی کام خود کریں: برتن دھونا، اپنے کپڑے رکھنا، بچوں کو سکول چھوڑنا یا بوڑھی ماں کے لیے چائے بنانا۔ اور یہ نیت کریں کہ یہ نبی ﷺ کی سنت ہے۔ یہ چھوٹا سا کام گھر میں محبت بھی بڑھاتا ہے اور اجر بھی۔
اس ہفتے کا عمل: ہر نماز کے بعد دس مرتبہ درود پڑھیں، اور بچوں کو نبی ﷺ کے حسنِ سلوک کا ایک واقعہ سنائیں۔
قرآن کے احکام، صحیح احادیث کی روشنی میں، ہر جمعے ایک نیا موضوع۔ اپنی مسجد کے خطیب صاحب اور دوستوں تک یہ پیغام پہنچائیں۔