ہر خطبے میں پہلے موضوع کے مطابق آیاتِ قرانی ہیں اور اس کے بعد ان آیات سے حاصل ہونے والے اسباق تحریر ہونگے۔ اس کے بعد ان اسباق پر صحیح احادیث کی روشنی میں تھوڑی سی تفصیل ہوگی۔ پھر ایک چھوٹی نیکی اور ہفتے بھر کیلئے اللہ تعالی کے احکامات کے مطابق ایک عمل کی سفارش کی جائے گی۔
اس کے بعد خطبے کے اختتام سے پہلے ایک خلاصہ تاکہ بعد میں آنے والے بھی موضوع سے مستفید ہوسکیں۔ پھر اختتام اور دعا
۔
اگر کوئی میرے خطبات سے استفادہ نہ بھی کرنا چاہے تو اس فہرست میں سے اپنی سہولت کے مطابق اپنے خطبات کے موضوع تیار کرسکتا ہے۔ ہر موضوع کے ساتھ متعلقہ آیاتِ قرآنی کے نمبر لکھے ہوئے ہیں۔
۔
۔۔۔ راہنما
فرشتوں، کتابوں، رسولوں، آخرت اور تقدیر پر ایمان
ایمان جو نظر آئے
"تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔" (الزلزال 99:7، ترجمہ مولانا فتح محمد جالندھریؒ)
ایمان کی چھ بنیادیں ہیں: اللہ، فرشتے، کتابیں، رسول، آخرت اور تقدیر (البقرہ 2:285، صحیح مسلم)۔
اس خطبے میں:
قرآن نے نیکی کی تعریف میں ایمان کے فوراً بعد رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور مانگنے والوں پر خرچ کرنے کا ذکر کیا، اور ایسے لوگوں کو سچا مومن قرار دیا (البقرہ 2:177)۔
دو فرشتے ہمارا ہر لفظ لکھ رہے ہیں، اس لیے بولنے سے پہلے تولیں (ق 50:18)۔
کتاب اور رسول پر ایمان کا مطلب ہے کہ دوسروں کے حق کا حکم آئے تو کہیں: سنا اور مانا۔
ذرہ برابر نیکی اور ذرہ برابر برائی دونوں سامنے آئیں گی (الزلزال 99:7-8)۔
اصل مفلس وہ ہے جو عبادتیں لے کر آئے مگر لوگوں کے حقوق پامال کر چکا ہو۔
آخرت پر ایمان کی نشانی: اچھی بات یا خاموشی، پڑوسی کی عزت، مہمان کی عزت۔
حدیثِ مبارکہ:
حضرت عمر بن خطابؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت جبریلؑ انسانی صورت میں آئے اور رسول اللہ ﷺ سے ایمان کے بارے میں پوچھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "یہ کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاؤ، اور اچھی بری تقدیر پر بھی ایمان لاؤ"۔ (صحیح مسلم 8)
اس ہفتے کی چھوٹی نیکی: مسکرا کر ملیں
اس ہفتے ہر ملنے والے سے مسکرا کر سلام کریں، خاص طور پر ان لوگوں سے جنہیں ہم عام طور پر نظر انداز کرتے ہیں: دکان کا ملازم، چوکیدار، صفائی والا، گھر کا ملازم۔ یہ ذرہ برابر نیکی بھی میزان میں دیکھی جائے گی۔
اس ہفتے کا عمل: ایک کاغذ پر وہ سب قرض، امانتیں اور حقوق لکھیں جو آپ پر دوسروں کے ہیں، اور ان میں سے کم از کم ایک ادا کریں یا اس کی ادائیگی کا وقت طے کریں۔ مفلس ہونے سے بچنے کا یہی راستہ ہے۔
قرآن کے احکام، صحیح احادیث کی روشنی میں، ہر جمعے ایک نیا موضوع۔ اپنی مسجد کے خطیب صاحب اور دوستوں تک یہ پیغام پہنچائیں۔