ہر خطبے میں پہلے موضوع کے مطابق آیاتِ قرانی ہیں اور اس کے بعد ان آیات سے حاصل ہونے والے اسباق تحریر ہونگے۔ اس کے بعد ان اسباق پر صحیح احادیث کی روشنی میں تھوڑی سی تفصیل ہوگی۔ پھر ایک چھوٹی نیکی اور ہفتے بھر کیلئے اللہ تعالی کے احکامات کے مطابق ایک عمل کی سفارش کی جائے گی۔
اس کے بعد خطبے کے اختتام سے پہلے ایک خلاصہ تاکہ بعد میں آنے والے بھی موضوع سے مستفید ہوسکیں۔ پھر اختتام اور دعا
۔
اگر کوئی میرے خطبات سے استفادہ نہ بھی کرنا چاہے تو اس فہرست میں سے اپنی سہولت کے مطابق اپنے خطبات کے موضوع تیار کرسکتا ہے۔ ہر موضوع کے ساتھ متعلقہ آیاتِ قرآنی کے نمبر لکھے ہوئے ہیں۔
۔
۔۔۔ راہنما
"کچھ شک نہیں کہ اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔" (البہرہ 2:222، ترجمہ مولانا فتح محمد جالندھریؒ)
اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو پسند کرتا ہے (البقرہ 2:222)؛ اور پاکیزگی آدھا ایمان ہے۔
اس خطبے میں:
وضو، غسل اور تیمم کے احکام اللہ نے خود بیان فرمائے، اور ساتھ فرمایا کہ وہ تنگی نہیں چاہتا (المائدہ 5:6)۔ ہم بھی دوسروں پر دین مشکل نہ بنائیں۔
وضو سے آنکھوں، ہاتھوں اور پاؤں کے گناہ دھل جاتے ہیں۔
جمعے کا غسل، مسواک اور خوشبو ساتھی نمازیوں کا حق ہے؛ بو والی چیز کھا کر مسجد نہ آئیں۔
راستے، سائے اور پانی کو گندا کرنا لعنت کا سبب اور سب لوگوں پر ظلم ہے۔
تقویٰ پر بنی مسجد کے لوگ پاکی کو پسند کرتے ہیں، اور اس کی ضد نقصان اور تفرقہ ہے (التوبہ 9:107-108)۔
کپڑے پاک رکھو، گندگی سے دور رہو، اور بدلے کی نیت سے احسان نہ کرو (المدثر 74:4-6)۔
حدیثِ مبارکہ:
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جمعے کا غسل ہر بالغ پر واجب ہے، اور یہ کہ مسواک کرے اور اگر میسر ہو تو خوشبو لگائے"۔ (صحیح بخاری 880، صحیح مسلم 846)
اس ہفتے کی چھوٹی نیکی: دوسروں کا کچرا اٹھا لیں
اس ہفتے کم از کم ایک بار راستے یا مسجد میں پڑا کوئی ایسا کچرا اٹھا کر کوڑے دان میں ڈالیں جو آپ نے نہیں پھینکا۔ یہی ایمان کی وہ شاخ ہے جو راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کی ہے۔ شاید کوئی دیکھ کر شرمندہ ہو اور اگلی بار خود بھی ایسا کرے۔
اس ہفتے کا عمل: اگر کوئی نیا نمازی یا بچہ وضو میں غلطی کرے تو اسے سب کے سامنے نہ ٹوکیں، بلکہ بعد میں اکیلے میں نرمی سے بتائیں، جیسے رسول اللہ ﷺ نے دیہاتی کو سمجھایا تھا۔
قرآن کے احکام، صحیح احادیث کی روشنی میں، ہر جمعے ایک نیا موضوع۔ اپنی مسجد کے خطیب صاحب اور دوستوں تک یہ پیغام پہنچائیں۔