ہر خطبے میں پہلے موضوع کے مطابق آیاتِ قرانی ہیں اور اس کے بعد ان آیات سے حاصل ہونے والے اسباق تحریر ہونگے۔ اس کے بعد ان اسباق پر صحیح احادیث کی روشنی میں تھوڑی سی تفصیل ہوگی۔ پھر ایک چھوٹی نیکی اور ہفتے بھر کیلئے اللہ تعالی کے احکامات کے مطابق ایک عمل کی سفارش کی جائے گی۔
اس کے بعد خطبے کے اختتام سے پہلے ایک خلاصہ تاکہ بعد میں آنے والے بھی موضوع سے مستفید ہوسکیں۔ پھر اختتام اور دعا
۔
اگر کوئی میرے خطبات سے استفادہ نہ بھی کرنا چاہے تو اس فہرست میں سے اپنی سہولت کے مطابق اپنے خطبات کے موضوع تیار کرسکتا ہے۔ ہر موضوع کے ساتھ متعلقہ آیاتِ قرآنی کے نمبر لکھے ہوئے ہیں۔
۔
۔۔۔ راہنما
"(اور کہتے ہیں کہ) ہم تم کو خالص اللہ کے لئے کھلاتے ہیں۔ نہ تم سے عوض کے خواستگار ہیں۔ نہ شکر گزاری کے (طلبگار)۔" (الدہر 76:9، ترجمہ مولانا فتح محمد جالندھریؒ)
دین کی بنیاد اخلاص ہے: ہر عمل صرف اللہ کی رضا کے لیے (البینہ 98:5)، اور اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے (بخاری 1)۔
اس خطبے میں:
شرک ایسا گناہ ہے جو بغیر توبہ معاف نہیں ہوتا (النساء 4:48)۔
دکھاوا "چھوٹا شرک" ہے، اور دکھاوے کی نیکی اللہ قبول نہیں کرتا۔
سورۃ الماعون: جو نماز یتیم کے ساتھ نرمی، مسکین کی فکر اور پڑوسی کے ساتھ فیاضی پیدا نہ کرے، وہ دکھاوے کی نماز ہے۔
احسان جتانا اور تکلیف پہنچانا صدقے کو چٹان پر پڑی مٹی کی طرح بہا لے جاتا ہے، اور ایک میٹھا بول اس سے بہتر ہے (البقرہ 2:263-264)۔
ڈاکٹروں یا دوسروں کو ترغیب دینے کے لیے کھلم کھلا دینا بھی خوب ہے، اور چھپا کر دینا اس سے بہتر (البقرہ 2:271، 2:274، فاطر 35:29)۔
مخلص بندے مسکین، یتیم اور قیدی کو کھلا کر کہتے ہیں: ہم نہ بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ (الدہر 76:8-9)۔
حدیثِ مبارکہ:
حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی"۔ (صحیح بخاری 1، صحیح مسلم 1907)
اس ہفتے کی چھوٹی نیکی: ایک خفیہ نیکی
اس ہفتے کسی ضرورت مند کی ایک ایسی مدد کریں جس کا آپ کے اور اللہ کے سوا کسی کو پتہ نہ چلے: کسی بیوہ کے گھر راشن بھجوا دیں، کسی طالب علم کی فیس خاموشی سے جمع کرا دیں، یا کسی مزدور کی اجرت میں چپکے سے کچھ اضافہ کر دیں۔ اور اس کا ذکر کسی سے نہ کریں۔ یہ نیکی آپ کے دل کی تربیت بھی ہے اور اس شخص کی عزت کا تحفظ بھی۔
اس ہفتے کا عمل: اگر آپ نے کبھی کسی کو اس کی مدد کا طعنہ دیا ہو، تو اس سے معذرت کر لیں۔
قرآن کے احکام، صحیح احادیث کی روشنی میں، ہر جمعے ایک نیا موضوع۔ اپنی مسجد کے خطیب صاحب اور دوستوں تک یہ پیغام پہنچائیں۔