
Allama Habib-ur-Rehman Kandhlvi (also known as Maulana Habiburrahman Siddiqi) was a prominent and highly controversial Pakistani Islamic scholar, researcher, and critic known for his fiercely independent and rationalist approach to traditional Islamic texts. Born in Muzaffarnagar, Uttar Pradesh, British India, he belonged to a scholarly family from Kandhla. Following the partition of 1947, he migrated to Pakistan and eventually settled in Bahawalpur, Punjab. Kandhlvi broke away from conventional narrative norms by subjecting classical Hadith collections, mainstream history, and popular religious myths to rigorous critical scrutiny. He authored several highly debated works—most notably his multi-volume critique Mazhabi Dastanain Aur Unki Haqeeqat ("Religious Tales and Their Reality") and Umar-e-Aisha Par Ek Tahqeeqi Nazar, in which he presented a famous minority calculation arguing that Sayyida Aisha was an adult at the time of her marriage. Because his critical methodology frequently challenged centuries-old traditional consensus, his research drew severe pushback from orthodox theological circles. He passed away in Bahawalpur, leaving behind a legacy as one of the region's most vocal reformist critics.
علامہ حبیب الرحمن کاندھلوی (جنہیں مولانا حبیب الرحمن صدیقی بھی کہا جاتا ہے) ایک ممتاز اور انتہائی متنازعہ پاکستانی اسلامی اسکالر، محقق اور نقاد تھے، جو روایتی اسلامی متون کے بارے میں اپنے آزادانہ اور عقلی رویے کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ وہ برطانوی ہند میں اتر پردیش کے شہر مظفر نگر میں پیدا ہوئے اور ان کا تعلق کاندھلا کے ایک علمی خاندان سے تھا۔ 1947ء میں تقسیمِ ہند کے بعد انہوں نے پاکستان ہجرت کی اور آخر کار پنجاب کے شہر بہاولپور میں مستقل سکونت اختیار کی۔ کاندھلوی نے کلاسیکی کتبِ حدیث، مروجہ تاریخ اور مقبول مذہبی داستانوں کو سخت تنقیدی معیار پر پرکھ کر روایتی بیانیے سے انحراف کیا۔ انہوں نے کئی بحث انگیز کتابیں تصنیف کیں—جن میں ان کی کثیر الجلد کتاب "مذہبی داستانیں اور ان کی حقیقت" اور "عمرِ عائشہ پر ایک تحقیقی نظر" سب سے زیادہ نمایاں ہیں، جس میں انہوں نے یہ موقف پیش کیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نکاح کے وقت ایک بالغ خاتون تھیں۔ چونکہ ان کا تنقیدی طریقہ کار صدیوں پرانے روایتی اجماع کو چیلنج کرتا تھا، اس لیے ان کی تحقیق کو قدامت پسند علمی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بہاولپور میں وفات پائی اور اپنے پیچھے خطے کے سب سے بے باک مصلح نقادوں میں سے ایک کی حیثیت سے علمی ورثہ چھوڑا۔
علامہ حبیب الرحمن کاندھلوی کے نزدیک شبِ برأت (15 شعبان کی رات) کے بارے میں مروجہ فضائل اور جشن کا کوئی مستند اور قوی شرعی ثبوت نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب "شب برات ایک تحقیقی جائزہ" میں یہ بیان کیا ہے کہ اس رات کے فضائل اور مخصوص اجتماعات کے بارے میں جو روایات یا قصے بیان کیے جاتے ہیں، وہ محدثین کی نظر میں ضعیف، منکر یا بے بنیاد ہیں۔
Create a free account to keep a personal list of favorites, pick up your reading right where you left off, and share your own ebooks with the library.
Create Free Account Reader Sign in